کان پڑی باتیں

آس پاس، متفرقیات رائے ديں »

جانے کیوں یہ پانی کا اثر ہے یا کوئی اور بات کہ یہاں آکر سیاست پر لکھنے کو دِل نہیں کرتا حالانکہ جو مہینہ پاکستان میں گزرتا ہے باوجود کوشش کے تان سیاست پر آکر ہی ٹوٹتی ہے۔ یا تو یہ پانی کو اثر ہے یا پھر ماحول کا۔ یہاں اپنے بھائی لوگ عجیب آس سی لیکر پاکستان کے متعلق پوچھتے ہیں ہم بھی تسلی دیتے ہوئے کہہ دیتے ہیں کہ ابھی تک مرغ کڑاہی والے ہوٹلوں پر رش نہیں ٹوٹا، باقی باتوں اور حالات کی ہم سے زیادہ انہیں خبر ہے کہ کام، بیوی اور ٹی وی کے علاوہ جانا کہاں ہے؟
دوپہر میں کمپنی کینٹین میں سب ہی کھانا کھاتے ہیں اور ساتھ بیٹھے ہوئے مختلف قومیتوں کے لوگ کیا باتیں کر رہے ہوتے ہیں اڑتی اڑتی ہمارے کانوں تک جو  پہنچتی ہے اس کی جھلکیاں کچھ یوں ہیں
Jim you find the file for your presentation.
………..
Bob What’s up friday evening join us, no excuse.


Mark we injoyed last weekend at Umsaeed.

تیرا گاڑی کا کیا بنا؟ کمار نے تو پکڑ لی۔
ابھی دیکھ رہا ہوں کل بھی ایک پاتھ فائنڈر دیکھی تھی مگر میرا دوست بولا اس کا انجن اینگولر ہوتا ہے باقی کی طرح اسٹیٹ نہیں یہ چلانے میں لفڑا ہوگا۔(یہ دونوں نئے آئے ہوئے انڈین ہیں ہر انڈہ بھی چار اپنے جیسے ایکسپرٹ سے پوچھ پاچھ کے لیں گے)
ارے نہیں تونے ٹرائی تو کیا تھا۔
ارے وہ کیا ایک چھوٹا سا راؤنڈ مارا۔

۔۔۔۔۔۔۔
(انڈین مسلم اور دو پاکستانی بھائی)
انڈیا کا صدر خبروں میں نہیں آتا ہاں وہ عبدالکلام کو کیوں نکال دیا تھا؟
اس نے خود اگلی ٹرم کے لیے منع کردیا۔
آپ لوگوں نے اسے صدر بنایا ہمارے ہاں ڈاکٹر قدیر کے ساتھ (پھر دل و جگر نکال کے رکھ دیا گیا)
۔۔۔۔  بینظیر کے ساتھ تو زرداری دکھائی نہیں دیتا تھا بلکہ اسوقت جب میڈیا والے پوچھتے تھے تو بینظیر کہتی تھی کہ زرداری بیمار ہے۔ اب تو کوئی بیماری ویماری نہیں ہے۔
بلکہ اخبار والے تو کہتے تھے کہ انکی علیحدگی ہونے والی ہے۔ بینظیر تو جانتی تھی کہ اسی کی کرپشن کی وجہ سے اسکی گورنمنٹ گئی ہے اب وہی “ غداری “ صدر بننے جا رہا ہے۔
بھائی یہ سب گیم ہے گیم
 

اتحاد، تنظیم اور مکر

متفرقیات رائے ديں »

بی بی سی کے وسعت اللہ خان نے زرداری کی موجودہ پالیسیوں پر ایک عمدہ تحریر لکھی ہے۔

کشمیر بنے گا پاکستان؟؟

آس پاس، سیاست، گردوپیش رائے ديں »

پاکستان اسوقت داخلی، خارجی، سیاسی اور معاشی بحرانوں میں گِھرا ہوا ہے۔ ان بحرانوں کے بادل مستقبل قریب میں چھٹتے دکھائی نہیں دے رہے۔
دوسری طرف پاکستان کی شہہ رگ کشمیر میں ایک نئی تاریخ رقم ہورہی ہے۔ امر ناتھ شرائن بورڈ کی چنگاری نے پوری وادی کو الاؤ بنادیا ہے۔ آج کشمیری بغیر کسی خارجی تحریک کے اپنے لیے خود اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔وہ بھارتی ظلم و تشدد کا سامنا اپنے پر امن احتجاج سے کرکے پوری متمدن دنیا کا ضمیر جھنجھوڑ رہے ہیں۔ اب کشمیر کے ساتھ ساتھ پورے بھارت میں یہ سوال زیرِ بحث ہے کہ بھارت کب تک کشمیر کو غصب کیے بیٹھا رہے گا۔
بنظرِ غائر اگر جائزہ لیں تو یہ علیحدگی کی تحریکیں ہی بھارت کی ترقی کے پاؤں کی بیڑیاں ہیں ان میں بھی کشمیر کا تنازعہ سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ بھارت کابڑھتا ہوا مڈل کلاس اور تیزی سے ابھرتا ہوا سرمایہ دار طبقہ بجا طور پر تنازعہ کشمیر کو ایک رِستے ہوئے ناسور کے طور پر دیکھتا ہے جو دنیا بھر میں جمہوری اور سیکولر بھارت کے امیج کو تباہ کر رہا ہے۔ بھارت کا دانشور اب خود بھارت کو سامراجی رویے کا طعنہ دے رہا ہے۔
آزاد کشمیر کا الحاق پاکستان کے ساتھ ہے جب کبھی بھی آزادی یا کسی نئے ریاستی ڈھانچے کی بات ہوگی پاکستان بھی لازمًا اس سے متاثر ہوگا۔ لیکن یہاں پھر سوال اٹھ کھڑا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان کی حکومت اس موقع پر کشمیر کے تنازع کو اپنے اور کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق طے کراسکتی ہے؟
یا یہاں بھی افغانستان کی مانند جوتیوں میں دال بٹے گی اور پاکستان کے حصے میں دشنام آئے گا؟

پہلے لڑکیوں کے اسکول نذرِ آتش اور اب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

متفرقیات 3 آراء »

روزنامہ ڈان میں چھپی یہ خبر؛
دو عورتوں کو بد کرداری کے الزام میں جان سے ماردیا گیا۔
پشاور کے قریبی ضلع چارسدہ میں واقع ایک گاؤں سے چند دن قبل دونوں خواتین کو اغوا کیا گیا تھا۔ بدھ کے روز ان کی لاشیں گُلی گڑھی گاؤں کے قریب سے ملیں جنہیں گولی مار کر ہلاک کیا گیا تھا۔ ان کی لاشوں کے قریب ہی یہ تحریر بھی ملی کہ “ کئی دفعہ وارننگ دینے کے باوجود بدکرداری کا راستہ ترک نہ کرنے پر
 جیشِ اسلامی نے کیفرِ کردار تک پہنچایا۔“
پولیس ابھی تحقیق کررہی ہے۔ پولیس نے کہا کہ خواتین کے رشتہ دار کئی دنوں سے انہین ڈھوڈنڈہ رہے تھے اور ان میں سے ایک کوعثمانزئی گاؤں کی  ٤٠ سالہ صوفیہ کے نام سے شناخت کر لیا گیا ہے جسے اس کے رشتہ دار تین دن سے تلاش کر رہے تھے جبکہ دوسری لاش ٢٢سالہ عورت کی ہے جس کی شناخت نہیں ہوسکی، لیکن لاشوں کے قریب ملنے والی تحریر میں اس کا نام فوزیہ لکھا گیا ہے اس کا تعلق بھی اسی گاؤں سے بتایا جاتا ہے۔ 

روزنامہ ڈان

 
آپ کا کیا خیال ہے کیا یہ درست قدم ہے؟؟؟
کیا اسلام اسطرح کے قتل کی اجازت دیتا ہے؟
کیا اس قسم کے اقدامات سے معاشرہ سُدھرے گا یا انارکی پھیلے گی؟
  

یہ کونسا انتقام ہے؟

متفرقیات رائے ديں »

ڈیرہ اسماعیل خان میں اسپتال کے باہر دھماکہ ٣٠ افراد جان بحق
واہ کینٹ میں دو خود کش دھماکوں میں ستر افراد جان بحق
ان خودکش دھماکوں کی جتنی بھی مزمت کی جائے کم ہے۔
ان  جان بحق ہونے والوں کا بھی تو کوئی منتظر ہوگا۔ ان کے بچے بھی آنکھوں میں سپنے سجائے ان کی راہ دیکھ رہے ہوں گے۔ یہ بھی تو کسی والدین کے بڑھاپے کی لاٹھی ہوں گے۔ کسی سہاگن کا سہاگ اور کسی بہن کا مان ہوں گے۔ روزی کمانے گھروں سے نکلے اور اب کبھی لوٹ نہ سکیں گے اور وہ جو زخمی ہوکر ہسپتالوں میں پڑے ہیں اپنی باقیماندہ زندگی میں سسکتے رہیں گے یہ سب لوگ ایندھن بنے ہیں ایسی انتقام کی آگ کا جو دور کسی نے جلائی تھی اور ہم اسے اپنے گھر تک لے آئے ہیں۔
کوئی کہتا ہے کہ یہ ایمان کی جنگ ہے اور کوئی کہتا ہے یہ پاکستان کی جنگ ہے۔
لیکن یہ جنگ ہے جسمیں نہتی جانیں ضائع ہو رہی ہیں- دیر، سوات ، کرم ایجنسی ، ہنگو، ڈیرہ، پشاور، یا واہ کینٹ خون کس کا بہہ رہا ہے؟؟
ہزاروں لوگ بے گھر ہو رہے ہیں۔ اسی وطن میں گھرتباہ اور پناہ گزین بن کر خیمہ بستیاں آباد ہو رہی ہیں۔
حکومت نے رِٹ کی رَٹ لگائی ہوئی ہے اور مسلح گروہ نظریاتی بلیک میلنگ کر رہے ہیں۔
مجھ سمیت اکثرعام آدمی یہ جانتے ہیں کہ سالوں پہلے کسی نے بیج بویا تھا اس کی خار دار فصل ہم اور ہماری نسلیں کاٹ رہی ہیں۔ 

 


جملہ حقوق بحق Sarab سراب محفوظ ہيں.