اس دفعہ کی ساری چھٹیاں حبس اور امس بھرے موسم کی نظر ہوگئیں یہاں تک کہ مری تک میں امان نا ملی (موسم کی گرمی سے زیادہ ر ہوٹلوں کے کرائے کو تپ چڑھی ہوئی تھی اور خانس پور میں تو جگہ ہی نا تھی )۔ واپسی پر ایرپورٹ پہنچا تو گویا میرے نکلنے ہی کا انتظار تھا کہ چھاجھوں مینھ برس پڑا اور فلائٹ تک میں دو گھنٹے کی تاخیر ہوگئی۔ لاونج میں سب ہی دل کے پھپھولے پھوڑ رہے تھے باتیں ہو رہیں تھیں کہ جتنی بیتابی سے پاکستان آنے کا انتظار کرتے ہیں یہاں پہنچتے ساتھ ہی اس سے زیادہ شتابی سے واپسی کی پڑی رہتی ہے۔ ایک نوجوان استنبول جارہا تھا لیکن اتحاد ایرلائن سے، اسی وقت پی آئی اے کی بھی فلائٹ تھی ہالینڈ تک براستہ استنبول تو باقیوں نے پوچھا بھائی میاں آپ نے یہ کیوں بُک نہیں کرائی کہ اب اگلے کنکشن کے نکل جانے کی فکر کھائے جارہی ہے؟ جواب مِلا کہ پاکستان سے جانے والی پرواز کے مسافروں سے استنبول ایر پورٹ پر انسدادِ دھشت گردی کے ضمن میں خصوصی تفتیش ہوتی ہے بس اسی خواری اور بے عزتی کی وجہ سے بندہ لمبے کوس بھگت لیتا ہے لیکن پاکستان سے براہ راست جانا گوارا نہیں کرتا۔
جب دوہا ایر پورٹ پر پہنچا تو آفس کی گاڑی جا چکی تھی۔ کَروا کمپنی کی ٹیکسی پر دل نہیں ٹُھک رہا تھا کہ دور جانا تھا اور کرایہ ڈیڑھ سو ریال بن جاتا ہے۔ پرائیویٹ ٹیکسی کے لیے نگاہ دوڑائی تو ایک لڑکے کو متلاشی سا پایا اس سے پوچھا گاڑی ہے۔
جی بالکل
اس نے اسی ریال مانگے
میں نے بھاؤ تاؤ کے لیے ستر کہے اس نیت سے کہ اترتے ہوئے اسّی ہی دوں گا۔
گھنٹے بھر کا راستہ ہے۔ یہ سلیم صاحب گورکھ پور، مہاراج نگر کے نکلے۔ گاڑی نئی اور اچھی تھی باتیں شروع ہوئیں تو پتہ چلا کہ کرائے کی ہے اور ایک کمپنی کی رسید بک بھی رکھی ہے کہ پولیس نا پکڑے ۔ پانچ سال سے دوہا ہی میں گاڑی چلا رہا ہے۔ موسم کے ذکر سے پوچھنے لگا کہ آپ کے ہاں بھی دھان بٹھا رہے ہوں گے؟ بتایا کہ اسلام آباد میں صرف کھایا جاتا ہے کچھ کھیتی باڑی نہیں ہوتی۔
اس کی مادری زبان (اردو ہندی کی ماں )بھوجپوری تھی اور حیرت انگیز طور پر پاکستان کے متعلق کچھ زیادہ نہیں جانتا تھا۔ چار بھائی یہیں رہتے ہیں ایک نے مدرسے سے تعلیم پائی ہے اور اُسے اردو لکھنا پڑھنا آتا ہے اور اُسی کو شاعری کا بھی شوق ہے یہ لکھنؤ کی قربت کے باوجود اردو کے شبدوں سے بھی ناواقف ہیں کہ آٹھویں کلاس سے ہی اسکول سے بھاگ لیے تھے اور سلائی کڑھائی سیکھ کر اب پانچ سال سے ٹیکسی چلا رہے ہیں دو سال ہوئے ہیں شادی کو۔
بات دوبارہ دھان اور کھیتی باڑی پر پہنچ گئی ابا گھر پر ہوتے ہیں کھیتی باڑی کا کیا دیکھنا کہ “ کوت “ ٹھیکے پر دھان “ بِٹھا “ جاتے ہیں پھر کمبین سے کاٹ کر بیچ دیتے ہیں ابا تو بس “بازار کرتے ہیں“
یہ بازار کیا کرتے ہیں کوئی دکان داری وغیرہ؟
نہیں سبزی وبزی لاتے ہیں گوشت کھانے کے بہوت شوقین ہیں۔
میرا سوال “ کیا بڑے کا گوشت بھی ملتا ہے گاؤں میں؟
بڑا مطلب ؟
گائے بھینس
بیف بھی ملتا ہے لیکن کم ہی لوگ کھاتے ہیں 35 روپے کا کلو ملتا ہے گائے کا گوشت
ارے گائے کیسے کاٹتے ہیں ہندو وغیرہ اعتراض نہیں کرتے؟
اعتراج کاہے کو کریں گے ٹھیکہ ہوتا ہے کٹوے کا قصائی کا ۔ مٹن زیادہ کھاتے ہیں 220 روپے میں کلو ہے آپ کے پاکستان میں کیا بھاؤ ملتا ہے؟
350 روپے
اچھا اتنا مہنگا!
(اور پھر مجھ سے وہ سوال پوچھا گیا جس کا جواب مجھے ہمیشہ ہی شرمندہ کر دیتا ہے پڑوسیوں کے سامنے ) اچھا ریال میں کتنے پاکستانی روپے آتے ہیں
22 روپے
کیا یہ تو نیپال سے بھی کم کا پیسہ ہے پاکستان کا!
( بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی )
جیسے تیسے بات بدلی اور پھر گائے اور قصائی پر لائے
سلیم میاں کہنے لگے کہ ہمارے پڑوس میں سون پریرا نام کا گاؤں ہے وہاں کے زمین دار دو نمبر کام کرتے ہیں وہ ٹھیکے ویکے کی بھی پروا نہیں کرتے روز ہی گائے لٹالتے ہیں۔
کیا دو نمبر کام کرتے ہیں؟
یہی ڈرگ ورگ اور دساور مال بھیجتے ہیں مگر پولیس کی ہمت نہیں کہ ہاتھ لگا سکے۔
اچھا جب آپ کے یہاں دھان کی فصل زیادہ ہوتی ہے تو کھانے میں بھی چاول زیادہ کھاتے ہوں گے۔
نہیں ہمارے ابا روٹی کھائے بغیر کھانے کو کھانا ہی نہیں مانتے۔
اچھا آپ کے پاکستان میں تو سب مسلمان ہی رہتے ہوں گے؟
نہیں بھئی غیر مسلم بھی ہیں عیسائی، ہندو سکھ وغیرہ
اچھا پاکستان کی آبادی کتنی ہے؟
13 چودہ کروڑ
بس اس سے زیادہ مسلمان تو انڈیا میں ہیں۔
(مجھے بڑا افسوس ہوا کہ سارے بھرم ٹوٹتے جارہے ہیں )
اچھا یہ بتاؤ کہ تمہاری ٹیکسی میں تو ہر نیشنلٹی کے لوگ سفر کرتے ہیں کون سے ملک کے لوگ زیادہ اچھے ہیں؟
باقی تو سارے ٹھیک ہوتے ہیں بس فلسطینی جب بیٹھنے لگتے ہیں تو جو پیسے بولو مان جاتے ہیں اترتے وقت پیسے نہیں دیتے کہ تمہاری گاڑی پرائیویٹ ہے ٹیکسی نہیں ہم پولیس کو فون کرتے ہیں۔ میں بھی پھر کمپنی کے مدیر سے فون کرواتا ہوں اور پیسے لیکر ہی چھوڑتا ہوں۔
انہی باتوں میں مصروف پون گھنٹے میں ہم رہائش گاہ کے قریب پہنچ گئے اور میں نے کہا کہ اب دائیں موڑ لینا۔
ارے ہم بھوجپوری میں بھی تو دائیں اور بائیں بولتے ہیں۔
میں دل میں سوچ رہا تھا کہ زبان کا رشتہ بھی عجیب ہوتا ہے!
حاليہ آراء