پھر فراز

رضوان نے Wednesday، 7 October 2009 کو شائع کيا.

کافی وقت کے بعد کچھ لکھنے کی ہمت ہوئی ہے کبھی فرصت، کبھی طبیعت، کبھی نیت بس کچھ نا کچھ رکاوٹ بنتی رہی۔
چلیں شروع فراز کے نام سے
(آپ کے لیے پرانے ہوں تو نشر مکرر سمجھیے)

ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز
اور ان کی جوتیاں لے کے بھاگ گیا فراز

فراز کی شادی میں ہوئے اتنے پھول نچھاور
کیمرہ مین فراز کے ساتھ جیو نیوز پشاور

یہ کیا تو سفید کرتے میں پھر رہا ہے فراز
اج کالا جوڑا پا ساڈی فرمائش تے

اس نے مجھے رات کو جنگل میں چھوڑ دیا فراز
یہ کہہ کر کہ پیار کیا تو ڈرنا کیا

ایک نفرت ہی نہیں دنیا میں درد کا سبب فراز
سنا ہے انجکشن کی سوئی بھی درد دیتی ہے

در در پھرتے ہیں غمِ عشق کے مارے
صوفی سوپ کے لشکارے جگمگ کپڑے سارے

لیلہ کی شادی میں لفڑا ہوگیا
اتنا ناچا فراز کہ لنگڑا ہوگیا

اتنا سن کر ہی ہمارا دل ٹوٹ گیا فراز
 The number you have dialed is busy on another call

مجھ سے لوگ ملتے ہیں میرے اخلاق کی وجہ سے فراز
ہور میرے کوئی سموسے تے نئیں مشہور

وہ ہمیں بے وفا کہتے ہیں تو کہتے رہیں فراز
امّی کہتی ہیں جو کہتا ہے وہ خود ہوتا ہے

فراز تمہارے جانے سے دل بہت روتا ہے
اوپر پنکھا چلتا ہے نیچے منّا سوتا ہے

چلو فراز اب موسم کا مزہ چکھیں
تمام دوائیں بچوں کی پہنچ سے دور رکھیں

اب تو ڈر لگتا ہے کھولنے سے بھی دراز
کہیں ایسا نہ ہو کہ اس میں سے بھی نکل آئے فراز

تعلیم ——————————— ہفتہ بلاگستان

رضوان نے Sunday، 23 August 2009 کو شائع کيا.

 

تعلیم پر کچھ لکھنے کے لیے پہلے پڑھنا پڑے گا اور پڑھنے سے بچنے کے لیے میں اپنی تعلیم کے متعلق کیوں نا لکھ دوں۔
میں خود کو دنیا کے خوش نصیب لوگوں میں سے ایک سمجھتا ہوں
میرے والدین کم پڑھے لکھے اور  انتہائی غریب طبقے سے تعلق رکھتے تھے اس کے باوجود بچپن سے میری کوئی خواہش رد نہیں ہوئی میں نے اپنے والد کو عملی طور پر دن رات مشقت کرتے ہوئے دیکھا۔ مجھے بھی اسی نوے فیصد بچوں کی طرح ڈاکٹری کا شوق چڑھا ہوا تھا میٹرک کے دنوں میں ہماری کلاس میں کُل ملا کر اٹھارہ طلباء طالبات تھے ہمارے ٹیچرز بھی مجھ سمیت چار لڑکے لڑکیوں کے متعلق پُرامید تھے کہ پروفیشنل کالج میں چلے جائیں گے۔ ہم لوگ شام کو اکٹھے پڑھا کرتے تھے وہاں ہمارے ایک جاننے والے ایک دن کہنے لگے دیکھو چھلانگیں کم ہی لگتی ہیں تم لوگوں کومیرا کہنا برا لگے گا لیکن زندگی میں ترقی زینہ بہ زینہ ہی ہوتی ہے۔ محنت کرو لیکن انجینیئری ڈاکٹری نہیں کسی قابلِ حصول ٹارگیٹ کو سامنے رکھو۔(بھائی صاحب فوجی تھے مجھے اور میرے دوستوں کو اس کی اپروچ پر غصہ آیا لیکن کچھ کہا نہیں ) میرے ساتھ سلیم تھا اور ہم دونوں ماٹھے گھرانوں کے چراغ تھے۔
میٹرک کے بعد میرے ایک چچا نے کہا کہ تم پولی ٹیکنیک میں ایڈمیشن لے لو جہاں سے ڈپلومہ کرنے کے بعد ٹیکنیشن کی اچھی جاب مِل جائے گی لیکن صاحب کہاں ٹیکنیشنی کہاں ہماری سوچیں اس لیے ان کی تجویز رد کر دی گئی۔
ایف ایس سی میں جاکر پتہ چلا کہ میڈیکل اور انجینئیرنگ کے لیے صرف گریڈ ہی نہیں پیسوں کی بھی ضرورت ہوتی ہے اور یہاں اگر 4ڈی (بس) نکل جائے تو جی3 (ویگن) کے پیسے جیب میں نہیں ہوتے تھے۔
ان ہی دنوں احساس ہوگیا کہ اگر میں نے کچھ نا کیا تو چھوٹے بھائی اور بہنیں وہ شاید پڑھ نا پائیں (یہ الگ بات ہے کہ میرے کافی کچھ کرنے کباوجود بھی وہ ——) اس لیے اپرنٹس شپوں کے لیے اپلائی کرنے کا سوچا پہلی ہی اپلیکیشن کا جواب آگیا کہ میاں ٹیسٹ کے لیے حاضر ہو جاؤ یہ نیشنل ریفائنری کی تین سالہ اپرینٹس شپ تھی جس کے ٹیسٹ کراچی گرائمر اسکول میں ہورہے تھے ٹیسٹ انٹرویو کے بعد مبلغ 398 روپیہ ماہوار نصف جنکے —- ہوتے تھے اور یہ کوئی اسوقت کی بات نہیں ہے جب دیسی گھی روپے میں پانچ سیر ملتا تھا یا پانچ بیسیوں کی بھینس آتی تھی یہ سن چوراسی کی بات ہے جب راج مزدور سو روپیہ دیھاڑی کما تا تھا۔ ریفائنری جوائن کرنے کے بعد پتا چلا کہ ساٹھ لڑکوں میں سے میٹرک بیس پر ہم کُل مِلا کر 10 بارہ لڑکے ہیں باقی قوم تو بی ایس سی اور ایم ایس سی، ڈپلومہ والی ہے اور ریفائنری یا فرٹیلائزر کی جاب، جاب نہیں ہے بلکہ پارس ہے یہ خلیج کے ممالک کے لیے ٹرانزٹ لاونج ہے۔
ابھی اپرینٹس شپ پوری بھی نہیں ہوئی تھی کہ عراق کے لیے ایک ہزار ڈالر کی جاب آفر آ گئی لیکن اسوقت تک میری شادی ہوچکی تھی اور گھر کے حالات ایسے نہیں تھے کہ میں بیرونِ ملک جاتا اور یہ میرے حق میں بہت بہتر ہوا۔ ریفائنری میں رہتے ہوئے جہاں میں نے اپنا گھر بنایا وہیں تعلیم بھی پوری کی اور اس کے بعد چورانوے میں سعودیہ آگیا اور پھر وہاں سے قطر۔
یہاں آکر بجائے پلاٹوں اور پراپرٹی  کے چکر کے میں نے اپنے  بچوں کی تعلیم سامنے رکھی انہی کی تعلیمی ضروریات کے مطابق جاب بھی تبدیل کرتا رہا اور مجھے عین وقت پر مواقع بھی ملتے رہے یعنی پہلے سعودیہ پھر قطر پھر پاکستان اور اب دوبارہ قطر۔ پچھلے سال میرے بڑے بیٹے نے ایم ایس سی کیا اور اب وہ آسٹریلیا میں پڑھ رہا ہے، اس سے چھوٹے کی میکینیکل انجینرنگ کی گریجویشن اس سال بریڈ فورڈ یونیورسٹی سے ہوئی ہے اور اس بات پر پھولا نہیں سما رہا تھا کہ اس نے ڈگری عمران خان کے ہاتھوں وصول کی جس نے ڈگری دیتے ہوئے اردو میں کہا مبارک ہو زبیر۔۔۔ میری بیٹی اسی سال ایم بی اے مکمل کر لے گی اور ان سب کے لیے میں نے کوئی حکومتی یا سرکاری سیٹ نہیں لی ان سب کو سیلف فائنانس کی بنیادوں پر آگے بڑھایا کہ میں یہ خرچ برداشت کرسکتا ہوں کوئی اور شاید نا کر سکے تو اس کا راستہ تو نا رُکے ۔
میرے اسکول کے قریبی دوستوں میں سے اتفاق ایسا ہے کہ سلیم اور سجاد نے بھی سوئی ساؤدرن گیس کمپنی کی اپرینٹس شپ کی سلیم آج اپنی کمپنی کا ایم ڈی ہے کراچی ڈیفنس میں آفس اور گھر ہے اور سجاد کے پیچھے ڈرلنگ کمپنیوں والے آفرین لیے گھومتے ہیں (کوئی مبالغہ نہیں ہے) اور ہم تینوں ہی چوکیدار اور خانساموں، باورچیوں کی اولادیں ہیں۔
آج ہم انجینیر اور ڈاکٹر نہیں یہ خلش اپنی جگہ برقرار ہے لیکن کامیابی زینہ بہ زینہ (زینہ کا رُخ اوپر کی طرف ہو بیسمنٹ کی جانب نہیں)  والی بات سچ ہے۔ تعلیم روایتی ہی نہیں بلکہ پیشہ ورانہ بھی اہم ہے۔ ہمارے صنعتی ادارے جو ٹریننگ دے رہے ہیں وہ بھی انتہائی اہم ہے۔
(موضوع کیساتھ انصاف نہیں ہوسکا بھر کبھی سہی)

یومِ بچپن ————– ہفتہ بلاگستان

رضوان نے Thursday، 20 August 2009 کو شائع کيا.

 

میرے بچپن کے دن
 کتنے اچھے تھے دن
آج بیٹھے بٹھائے کیوں یاد آگئے

میرے ذہن میں سب سے پرانی یادیں ایسی ہیں کہ بے ربط سے فلیش یا جھماکے جن کے سیاق و سباق کا زیادہ علم نہیں لیکن کچھ مناظر اور ڈائیلاگ۔۔۔۔
 پیر الہٰی بخش کالونی کی کچی آبادی کے ایک مکان میں رات کو اپنی والدہ کے بڑے ماموں کے پہلو میں لیٹا ان سے کمرے ہی میں  کھڑے ویسپا کی نمبر پلیٹ کا پوچھتا رہا کہ یہ کیا ہے؟ کیوں ہوتی ہے؟ اور یہی پوچھ تاچھ کرتے ہوئے سو گیا صبح دیکھا تو گھر میں  ‌کافی لوگ آئے ہیں اور نانا کو سفید کپڑے میں لپیٹ دیا گیا ہے۔
کورنگی کریک کا سرکاری مکان جس کے صحن میں مہمان جمع ہیں میں نے نئے کپڑے پہنے ہوئے ہیں اور کچھ ہار وغیرہ بھی گلے میں ڈال رکھے ہیں مجھے سٹول پر بٹھایا جاتا ہے اور بھُلاوا دینے کے لیے آسمان کی طرف اشارہ کر کے خوبصورت سی چڑیا دیکھنے کو کہتے ہیں ساتھ ہی “ واردات “ کردی جاتی ہے میں درد سے رونے کے لیے منہ کھولتا ہوں تو گلاب جامن کی شیرینی حلق تر کر جاتی ہے۔ کچھ دن صرف کرتا پہنے گھومتا رہتا ہوں۔
صدر ایمپریس مارکیٹ کے سامنے فٹ پاتھ پر پلاسٹک کی پستول سے ایک پتھاریدار ڈرم میں مٹی ڈالے گولیاں چلا کر دکھا رہا ہے۔ مجھے وہ پستول والد صاحب دلاتے ہیں اور اس کے بعد ٹرام میں سوار ہوتے ہیں جس کا ایک ہی ڈرائیور ہوتا ہے لیکن اسٹیرنگ دونوں رخ پر ہوتا ہے ایک مسحور کن گھنٹی ٹن ٹن ٹنا ٹن کی آواز کے ساتھ آہستہ خرامی سے چلتی ہے۔
میں اپنے ماموں اور پھوپھی کے ساتھ صدر ہی سے واپس کورنگی کریک آرہا تھا کہ پاکستان ریفائنری کے سامنے جہاں آج کل آئی بی اے بنا ہوا ہے وہاں دو تین کلومیٹر کے علاقے میں ناریل فارم بنا ہوا تھا اس جنگل میں بس خراب ہوگئی اور سہ پہر کو وہاں سے پیدل ہی گھر تک آنا پڑا کہ اس زمانے میں یہی ایک یا دو بسیں ہی اس روٹ پر چلتی تھیں۔ اس تین کلومیٹر راستے کو پہلے تو خراماں خراماں ایک پہیے والے کھلونے (جس کے چلنے سے اس کے ساتھ لگی گھنٹی بجتی تھی) کو چلانے کے لیے چلتا رہا پھر ماموں کے کندھے کی سواری کی۔ 
پھر والدہ کے ساتھ گاؤں میں گزارے ہوئے دن بلیک آؤٹ کی وجہ سے صرف لالٹین جلتی رہتی تھی گاؤں کے کچے کوٹھے کے روشن دان کو کالے کاغزوں سے ڈھکا ہوا تھا اور والدہ اسی لالٹین کی روشنی میں سوئیٹر بُنا کرتی تھیں۔ ہمارا گاؤں سکیسر (احمد ندیم قاسمی والا) سے تھوڑا دور پہاڑی کے دامن میں ہے ایک شام پتا چلا کہ کچھ دور ایک جہاز گر گیا ہے دوسرے دن صبح ہی صبح ایک ہیلی کاپٹر آیا معلومات لینے کے لیے۔ گاؤں سے کیسے اور کب واپسی ہوئی یاد نہیں ہے۔ اسکول میں داخلے کا بھی یاد نہیں ہاں پہلی کلاس کی کھیل کود ضرور یاد ہے۔ ماریں بھی کھائیں انعام بھی لیے شرارتیں بھی کیں بہت سے اچھے ساتھی اور دوست ملے۔ دسویں کلاس میں کل ملا کر اٹھارہ طلباء و طالبات تھے تین چار کے علاوہ کسی سے رابطہ نہیں ہوسکا۔
بچپن کے کھیلوں میں ہاکی کرکٹ فٹبال کے علاوہ دوپہر کو جو گھر سے چھپ کر کھیلتے تھے اس میں کَنچے، سگریٹ کے خالی پیکٹس سے چاند چھاپ، لٹو، کِل کِل کانٹا کے نام پر ساری دیواروں کا ناس مارنا، بندر ڈنڈی، سریے کی راڈ سے ایک پہیے کو چلانا،
پھر چاندنی راتوں میں امّیاں گھروں کے درمیان کے میدان میں مل بیٹھ کر گپیں لگاتیں اور ہم محلے کے مجموعہ بچے چھپن چھپائی، مانجھی پالا، قسم کے کھیل کھیلا کرتے۔
بچپن کی شرارتوں میں ایک ٹولہ ہوتا تھا انور عرف انو، گوگا، حنیف، سلیم اور میں ہمارا تختہ مشق بنا کرتا تھا عارف عرف کی کی گلی میں اگر سویا ہوا ہے تو اس کے منہ میں کہیں سے لیکر نسوار ڈال دی، یا سوتے کی چارپائی اٹھا کر کیچڑ میں رکھ دی۔ (وہ بھی بدلہ لے ہی لیا کرتا تھا)
یہ پی اے ایف کا بیس تھا یہاں کچھ جگہوں پر سرکاری ٹی وی لگا دیے گئے بس پھر معمولات ہی تبدیل ہوگئے۔
اس زمانے کے گانے تو گانے اشتہار تک ہِٹ ہوتے تھے، انکل عرفی، کرن کہانی، وارث، تعبیر  کے علاوہ سکس ملین ڈالر مین، مائنڈ یور لینگویج، چپس اور ایکشن سیریس میں سٹارسکی اینڈ ہیچ کیا کیا نادر پروگرام تھے (آج کے بچوں کو اپنے پروگرام اچھے لگیں گے)

دوحہ قطر

رضوان نے Friday، 7 August 2009 کو شائع کيا.

دوحہ قطر کے متعلق ابو شامل نے بہت ہی جامع معلومات فراہم کیں ہیں۔ میں صرف کچھ تصاویر کا تڑکا لگا دیتا ہوں۔

 

اس دفعہ کا سفر

رضوان نے Saturday، 1 August 2009 کو شائع کيا.

اس دفعہ کی ساری چھٹیاں حبس اور امس بھرے موسم کی نظر ہوگئیں یہاں تک کہ مری تک میں امان نا ملی (موسم کی گرمی سے زیادہ ر ہوٹلوں کے کرائے کو تپ چڑھی ہوئی تھی اور خانس پور میں تو جگہ ہی نا تھی )۔ واپسی پر ایرپورٹ پہنچا تو گویا میرے نکلنے ہی کا انتظار تھا کہ چھاجھوں مینھ برس پڑا اور فلائٹ تک میں دو گھنٹے کی تاخیر ہوگئی۔ لاونج میں سب ہی دل کے پھپھولے پھوڑ رہے تھے باتیں ہو رہیں تھیں کہ جتنی بیتابی سے پاکستان آنے کا انتظار کرتے ہیں یہاں پہنچتے ساتھ ہی اس سے زیادہ شتابی سے واپسی کی پڑی رہتی ہے۔ ایک نوجوان استنبول جارہا تھا لیکن اتحاد ایرلائن سے، اسی وقت پی آئی اے کی بھی فلائٹ تھی ہالینڈ تک براستہ استنبول تو باقیوں نے پوچھا بھائی میاں آپ نے یہ کیوں بُک نہیں کرائی کہ اب اگلے کنکشن کے نکل جانے کی فکر کھائے جارہی ہے؟ جواب مِلا کہ پاکستان سے جانے والی پرواز کے مسافروں سے استنبول ایر پورٹ پر انسدادِ دھشت گردی کے ضمن میں خصوصی تفتیش ہوتی ہے بس اسی خواری اور بے عزتی کی وجہ سے بندہ لمبے کوس بھگت لیتا ہے لیکن پاکستان سے براہ راست جانا گوارا نہیں کرتا۔

جب دوہا ایر پورٹ پر پہنچا تو آفس کی گاڑی جا چکی تھی۔ کَروا کمپنی کی ٹیکسی پر دل نہیں ٹُھک رہا تھا کہ دور جانا تھا اور کرایہ ڈیڑھ سو ریال بن جاتا ہے۔ پرائیویٹ ٹیکسی کے لیے نگاہ دوڑائی تو ایک لڑکے کو متلاشی سا پایا اس سے پوچھا گاڑی ہے۔

جی بالکل

اس نے اسی ریال مانگے

میں نے بھاؤ تاؤ کے لیے ستر کہے اس نیت سے کہ اترتے ہوئے اسّی ہی دوں گا۔

گھنٹے بھر کا راستہ ہے۔ یہ سلیم صاحب گورکھ پور، مہاراج نگر کے نکلے۔ گاڑی نئی اور اچھی تھی باتیں شروع ہوئیں تو پتہ چلا کہ کرائے کی ہے اور ایک کمپنی کی رسید بک بھی رکھی ہے کہ پولیس نا پکڑے ۔ پانچ سال سے دوہا ہی میں گاڑی چلا رہا ہے۔ موسم کے ذکر سے پوچھنے لگا کہ آپ کے ہاں بھی دھان بٹھا رہے ہوں گے؟ بتایا کہ اسلام آباد میں صرف کھایا جاتا ہے کچھ کھیتی باڑی نہیں ہوتی۔

اس کی مادری زبان (اردو ہندی کی ماں )بھوجپوری تھی اور حیرت انگیز طور پر پاکستان کے متعلق کچھ زیادہ نہیں جانتا تھا۔ چار بھائی یہیں رہتے ہیں ایک نے مدرسے سے تعلیم پائی ہے اور اُسے اردو لکھنا پڑھنا آتا ہے اور اُسی کو شاعری کا بھی شوق ہے یہ لکھنؤ کی قربت کے باوجود اردو کے شبدوں سے بھی ناواقف ہیں کہ آٹھویں کلاس سے ہی اسکول سے بھاگ لیے تھے اور سلائی کڑھائی سیکھ کر اب پانچ سال سے ٹیکسی چلا رہے ہیں دو سال ہوئے ہیں شادی کو۔

بات دوبارہ دھان اور کھیتی باڑی پر پہنچ گئی ابا گھر پر ہوتے ہیں کھیتی باڑی کا کیا دیکھنا کہ “ کوت “ ٹھیکے پر دھان “ بِٹھا “ جاتے ہیں پھر کمبین سے کاٹ کر بیچ دیتے ہیں ابا تو بس “بازار کرتے ہیں“

یہ بازار کیا کرتے ہیں کوئی دکان داری وغیرہ؟

نہیں سبزی وبزی لاتے ہیں گوشت کھانے کے بہوت شوقین ہیں۔

میرا سوال “ کیا بڑے کا گوشت بھی ملتا ہے گاؤں میں؟

بڑا مطلب ؟

گائے بھینس

بیف بھی ملتا ہے لیکن کم ہی لوگ کھاتے ہیں 35 روپے کا کلو ملتا ہے گائے کا گوشت

ارے گائے کیسے کاٹتے ہیں ہندو وغیرہ اعتراض نہیں کرتے؟

اعتراج کاہے کو کریں گے ٹھیکہ ہوتا ہے کٹوے کا قصائی کا ۔ مٹن زیادہ کھاتے ہیں 220 روپے میں کلو ہے آپ کے پاکستان میں کیا بھاؤ ملتا ہے؟

350 روپے

اچھا اتنا مہنگا!

(اور پھر مجھ سے وہ سوال پوچھا گیا جس کا جواب مجھے ہمیشہ ہی شرمندہ کر دیتا ہے پڑوسیوں کے سامنے ) اچھا ریال میں کتنے پاکستانی روپے آتے ہیں

22 روپے

کیا یہ تو نیپال سے بھی کم کا پیسہ ہے پاکستان کا!

( بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی )

جیسے تیسے بات بدلی اور پھر گائے اور قصائی پر لائے

سلیم میاں کہنے لگے کہ ہمارے پڑوس میں سون پریرا نام کا گاؤں ہے وہاں کے زمین دار دو نمبر کام کرتے ہیں وہ ٹھیکے ویکے کی بھی پروا نہیں کرتے روز ہی گائے لٹالتے ہیں۔

کیا دو نمبر کام کرتے ہیں؟

یہی ڈرگ ورگ اور دساور مال بھیجتے ہیں مگر پولیس کی ہمت نہیں کہ ہاتھ لگا سکے۔

اچھا جب آپ کے یہاں دھان کی فصل زیادہ ہوتی ہے تو کھانے میں بھی چاول زیادہ کھاتے ہوں گے۔

نہیں ہمارے ابا روٹی کھائے بغیر کھانے کو کھانا ہی نہیں مانتے۔

اچھا آپ کے پاکستان میں تو سب مسلمان ہی رہتے ہوں گے؟

نہیں بھئی غیر مسلم بھی ہیں عیسائی، ہندو سکھ وغیرہ

اچھا پاکستان کی آبادی کتنی ہے؟

13 چودہ کروڑ

بس اس سے زیادہ مسلمان تو انڈیا میں ہیں۔

(مجھے بڑا افسوس ہوا کہ سارے بھرم ٹوٹتے جارہے ہیں )

اچھا یہ بتاؤ کہ تمہاری ٹیکسی میں تو ہر نیشنلٹی کے لوگ سفر کرتے ہیں کون سے ملک کے لوگ زیادہ اچھے ہیں؟

باقی تو سارے ٹھیک ہوتے ہیں بس فلسطینی جب بیٹھنے لگتے ہیں تو جو پیسے بولو مان جاتے ہیں اترتے وقت پیسے نہیں دیتے کہ تمہاری گاڑی پرائیویٹ ہے ٹیکسی نہیں ہم پولیس کو فون کرتے ہیں۔ میں بھی پھر کمپنی کے مدیر سے فون کرواتا ہوں اور پیسے لیکر ہی چھوڑتا ہوں۔

انہی باتوں میں مصروف پون گھنٹے میں ہم رہائش گاہ کے قریب پہنچ گئے اور میں نے کہا کہ اب دائیں موڑ لینا۔

ارے ہم بھوجپوری میں بھی تو دائیں اور بائیں بولتے ہیں۔

میں دل میں سوچ رہا تھا کہ زبان کا رشتہ بھی عجیب ہوتا ہے!

مارگلہ ٹریلز

رضوان نے Monday، 20 July 2009 کو شائع کيا.

 

اسلام آباد میں تفریح گاہیں تو کافی ہیں لیکن مارگلہ کا قرب جہاں قدرتی حسن اور عمدہ موسم بخشتا ہے وہیں ایسی پگڈنڈیاں (ٹریلز)  بھی فراہم کرتا ہے کہ جن پر چل کر آپ چند ہی منٹوں میں وال پیپرز کی حسین دنیا میں پہنچ جاتے ہیں۔ اس قدرتی حسن کو محفوظ رکھنے اور اسے عام لوگوں کی دسترس میں رکھنے  پر میں نوکر شاہی اور پاک فوج کا جتنا شکریہ ادا نا کروں کم ہے( باقی شکوے اپنی جگہ قائم ہیں )۔ یہ پگڈنڈیاں تعداد میں کافی ہیں جنکے ذریعے مارگلہ کے حسن سے لطف اندوز ہوا جاسکتا ہے۔ میں ٹریل (پگڈنڈی) 3 اور ٹریل 5 ہی کےذریعے  زیادہ تر مارگلہ کی سیر کرتا ہوں ٹریل 3 ہی زیادہ مقبول ہے شام کو اس کی پارکنگ فل ہوتی ہے اور پگڈنڈی پر سانسوں کی دھونکنی کا میلہ لگا ہوتا ہے( میک اپ زدہ چہروں پر بھی پسینے  کی پگڈنڈیاں بنی ہوتی ہیں )۔
ٹریل 3 اور ٹریل 5 پر پہنچنا بھی نہایت آسان ہے پبلک ٹرانسپورٹ کے ذریعے بھی پہنچا جاسکتا ہے کہ سید پور ماڈل ویلج سے ذرا آگے شالیمار کرکٹ گراؤنڈ کے بعد ہی ٹریل 3 شروع ہوجاتی ہے۔ ٹریل 5  کو درہ جانگلہ بھی کہتے ہیں یہاں ایک کیمپنگ سائٹ بھی بنائی گئی ہے اور ٹریل کے ساتھ پہاڑی چشمے اور شاندار قدرتی مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں جہاں ٹریل 3 کے ذریعے اسلام آباد کا نظارہ ہوتا ہے وہیں ٹریل 5 پر سفر کرتے ہوئے ہر موڑ پر فطرت ایک نیا جلوہ دکھاتی ہے اگر آپ رش کے اوقات سے ہٹ کر آئے ہوں تو وہ خوبصورت پرندے اور جانور بھی آپ دیکھ سکیں گے جو صرف چڑیا گھر میں دکھائی دیتے ہیں۔ ( کیمرے میں بھی قید کرنا انتہائی دشوار ہے )  ان جانوروں کے علاوہ رنگ برنگی تتلیاں اور انواع و اقسام کے نباتات اور درختوں کی بہتات ہے۔ وہ سنبل جس سے ہماری حکایات میں خارِ وطن خویش تر ہوتا ہے اسکا درخت بھی میں نے یہیں دیکھا اور ہم میاں بیوی نے اس کی روئی بھی جمع کی۔
تصاویر دیکھیے بلکہ سیر کیجیے سیکوریٹی کا بھی کوئی مسئلہ نہیں کہ مارگلہ میں چیک پوسٹیں موجود ہیں اور فیملی کے لیے ایک محفوظ سیر گاہ ہے بچوں کو فطرت سے روشناس کرانے کے لیے ضرور لانا چاہیے بس فطرتی سیر گاہ کا اصول مدِ نظر رہے کہ
یہاں سے کچھ ساتھ مت لائیے سوائے تصاویر کے اور کچھ چھوڑ کر مت جائیے سوائے نقشِ قدم کے 

 

کافی دنوں بعد

رضوان نے Monday، 15 June 2009 کو شائع کيا.

یوں لگتا ہے اک جُگ بیت گیا ہے سُکھ اور فراغت کا سانس لیے ہوئے بس مستقل کام اور پھر ڈیرے پر آکر بے سُدھ سو جانا۔ کبھی ایسا بھی ہوا کہ پندرہ گھنٹوں کے بجائے آدھی چھٹی یعنی 12 ہی گھنٹے بعد آٹھ بجے رہائش پر پہنچ گئے تو بھی کبھی کمپیوٹر دغا دے جاتا اور کبھی گھر والوں سے بات کرنے کے علاوہ کچھ اور کھولنے دیکھنے کی ہمت ہی نہیں ہوتی کہ سارا دن کسی نا کسی بہانے یہی اسکرین ہی تو تکتے رہتے ہیں۔ رہ گئی خبریں تو ایک تو کوئی اچھی خبر ملنے کی امید ہی نہیں ہوتی اور دوسرا پاکستانیوں کو خود اب کچھ ٹی وی شی وی دیکھنے کی ضرورت نہیں اردنی، انڈونیشیئن، ملائیشین ہمدردی سے ‘ساوتھ انڈین بِنا کسی جزبات کے(وہ اپنے باپ کے مرنے کی اطلاع بھی مشینی انداز میں دیتے ہیں) اور یو پی‘ سی پی والے  بناوٹی افسوس سے ساری کہانی بیان کر دیتے ہیں، ویسے بھی پاکستانی بھائیوں کے پاس آپس میں بھی بات کرنے کے لیے موضوعات کا سخت توڑا رہتا ہے۔
کل پرسوں دنیا کی مشہور گیس ٹربائن بنانے والے ادارے کا نمائندہ اپنی مشین کے بارے میں معلومات دے رہا تھا اسی دوران اس سے مختلف باتیں ہوتی رہیں اس نے فلورنس اور اس سے 80 کلومیٹر دور مساسہ ( انگریزی لکھنے کی ہمت نہیں ہے) میں اپنی فیکٹری اور شہر کی وڈیو بھی دکھائی باتوں میں ذکر چلا طیاروں کے انجن کا تو اس نے بتایا کہ بوئنگ کا پورا انجن (گیس ٹربائن) پانچ سے چھ گھنٹوں میں تبدیل کر دیتے ہیں اور اس کی وڈیو بھی دکھائی۔ اپنے ایک ساتھی نے کہا کہ “اسین وی کامرے وچ معراج دا ایہی حشر کردے ساں ایہی پھرتیاں تے ایئر فرانس نوں لے بیٹھیاں نیں“۔
اٹالیئن اپنے مزیدار انگریزی لہجے کے ساتھ کہانیاں سناتا رہا ساتھ ہی اپنی مِنی کوپر کو بھی مِس کرتا تھا کہ میں نے کبھی بھی تیز گاڑی نہیں چلائی لیکن اب سے پانچ ماہ پہلے ایک دن ایسے ہی ٹیسٹ کرنے کے لیے اپنی گاڑی کو ذرا تیز کیا تو وہ 210 پر پہنچ گئی لیکن ساتھ ہی جھماکا بھی ہوا اور پولیس والے نے مجھ سے لائسنس لیکر چھ ماہ بعد کی تاریخ دے دی اب سوائے سائیکل کے میں کچھ اور نہیں چلا سکتا!
یہ سُن کر مجھے اپنا وطن بڑا یاد آیا۔

اجوکا تھیٹر

رضوان نے Friday، 10 April 2009 کو شائع کيا.

اجوکا تھیٹر آجکل اسلام آباد کے
PNCA آڈیٹوریم میں سپرنگ فیسٹیول یا جشنِ بہاراں کے سلسلے میں ڈرامہ دکھا رہے ہیں ۔ ہمیں پہلے تو خبر ہی نہیں ہوئی پرسوں پتا چلا کہ آج بالا کنگ کے نام سے اسٹیج ڈرامہ دکھایا جائے گا کچھ پتا نہیں تھا کہ کیسے داخلہ ہے کیا ٹکٹ ہے بس یہ معلوم تھا کہ سات بجے ڈرامہ شروع ہوگا اور ہم پورا ٹبر بقول شخصے منہ اٹھائے  پی این سی اے چلے گئے انکا سوال تھا کہ کارڈ ہے ہم نے جواب دیا جی ہاں اور نادرا بیگم کا سبز کارڈ انکی طرف بڑھایا ۔ نہیں  جناب کوئی ریفرنس تو ہوگا؟؟
ہم نے بھولپنے سے جواب دیا کوئی نہیں بس دن میں آپکے دفتر فون کیا تھا انہوں نے ارشاد فرمایا کہ تھیٹر ہے اور ہم چلے آئے۔
ان صاحب نے ہم چاروں کیطرف دیکھا اور ارشاد فرمایا  “ اچھا ٹھیک ہے اندر کوئی پوچھے تو کہیے گا سلطان صاحب کے جاننے والے ہیں۔“
ہم نے احساسِ تشکر سے پوچھا اگر خود سلطان صاحب نے ہی پوچھ لیا تو؟؟
ساتھ کھڑے سیکوریٹی اہلکار نے ہنس کر کہا یہ خود ہی یہاں کے سلطان ہیں۔
اندر کسی نے کیا پوچھنا تھا۔ ڈرامہ شروع تھا اور لاجواب تھا “ بالا کنگ“ ہنسی ہی ہنسی میں ہماری سیاست کی چالبازیوں کو بے نقاب کرتا ہے اور بڑے ہی جاندار انداز میں ناظرین کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔
کل “ بلھا “ تھا اور اس کی شہرت تو بہت سُنی تھی لیکن ہم لوگ (میں میری بیوی اور دونوں بیٹیاں ) جتنے پُرجوش تھے اتنے ہی لیٹ لطیف بھی ہیں اور جب سات بجے پی این سی اے پہنچے تو وہاں ایک جم غفیر موجود تھا اور کوئی اپنے مامے چاچے کے عہدے کی اور کوئی اپنی دُھائی نما دھمکی دے رہا تھا مگر عملہ یہ سمجھا رہا تھا کہ بھائی اندر محدود جگہ ہے لوگ سیڑھیوں پر بھی بیٹھے ہیں آپ کو کہاں بھیجیں۔ تھوڑی دیر میں مدیحہ گوہر بھی آ گئیں اور انہوں نے کہا کہ آنے والے تین دنوں میں ہم یہی ڈرامے دوبارہ دکھائیں گے لوگوں نے ہماری توقع سے اچھا ریسپانس دیا ہے اور آپ لوگ آج تشریف لیجائیے اور کل ضرور آئیے گا۔
آج ہم ساڑھے چھ بجے ہی سے جاکر براجمان ہوگئے اور میرے پاس تعریف کرنے کے الفاظ نہیں ہیں کہ کیا غضب کی پرفارمنس تھی میں نا تو بیان کر سکتا ہوں اور نا ہی اس کا عشرِ عشیر حق  کوئی ریکارڈنگ یا سی ڈی ادا کر سکتی ہے تھیٹر تو تھیٹر ہوتا ہے اور اجوکا والوں نے ڈھائی گھنٹے اپنے طلسم میں اسیر رکھا۔ پھر بلھے شاہ کی کافیاں اور انکی زندگی کی عکاسی جواب نہیں ۔
لگتا تھا واقعی ہم آج سے ڈھائی سو سال پرانے بلھے کے عہد میں پہنچ چکے ہیں پھر صداکاری بے مثال۔
کل یعنی ١٠اپریل جمعہ کو “ ہوٹل موہنجو دارو“ اور ہفتہ کو پھر “ بالا کنگ “ پیش کیا جائے گا۔ کوئی ٹکٹ نہیں ہے اور پی این سی اے کی عمارت میریٹ ہوٹل کے پیچھے ہے جہاں یہ ڈرامے اسٹیج ہوں گے شام ساڑھے چھ بجے پہنچ جائیں لیکن اپنے موبائل فون بند کردیجیے گا ہماری سامنے والی قطار میں ایک خاتون ویڈیو بنانے کی کوشش کر رہی تھیں اور باقی لوگ تو بدمزہ ہو ہی رہے تھے میری بیٹی چاھتی تھی کہ ان سے فون چھین کر اسٹیج پر پھینک دے۔

نہ اُگلی جائے نہ نگلی جائے

رضوان نے Monday، 6 April 2009 کو شائع کيا.

اسوقت ایک عجیب مشکل آ پڑی ہے ڈھیٹ لوگوں کی تو کوئی بات نہیں انہیں تو میں نا مانوں والا عارضہ ہوتا ہے شیر افگن کے لیے بھی کوا آج تک سفید بلکہ چِٹا سفید ہی ہے ۔ بات ہورہی ہے دردِ دل رکھنے والے مسلمانوں کی
کچھ عرصے پہلے تک یہ لوگ کہتے رہے کہ بھئی یہ چند شرپسند ہیں انکی حرکات کو اسلام سے جوڑنا قطعًا درست نہیں پھر یہ ہوا کہ کہا گیا کہ جب آرمی اسکولوں میں مورچے بنائے گی تو انہیں تباہ تو کرنا ہی ہوگا ویسے ہی جیسے ان کے ہاں بچوں کی جوؤں کا علاج ٹنڈ کروانا ہوتا ہے۔
پھر خودکش حملوں کو بھی ڈرون کا جواب ثابت کرنے کی بھونڈی  کوشش ایسی ہی باتیں ہیں جیسے کمہار کا غصہ گدھے پر اور اب یہ وڈیو والا قصہ پہلے دن تو بڑے فخر سے اسے اپنایا گیا کئی ایک نام نہاد عمائدین نے اسے عین شریعت قرار دیا اب جب ساری دنیا سے تھو تھو ہورہی ہے تو کہا جارہا ہے کہ یہ سازش ہے۔
شرم کرو ایک دن پہلے قرآن و حدیث سے حوالے دیتے ہو کہ یہ یہ حدود اللہ ہیں (گویا جو کیا گیا درست ہے) دوسرے دن کہتے ہو کہ یہ وڈیو جعلی ہے یعنی وہ تمام حدود جنکا کل آپ نے حوالہ دیا تھا آپ خود اس سے بھاگ رہے ہو۔
واقعی انمیں خارجیوں والی تمام نشانیاں موجود ہیں جب پِٹنے لگتے ہیں تو قرآن پاک کو نیزوں پر بلند کر کے پناہ مانگتے ہیں اور جب ذرا سی شہہ پاتے ہیں تو بھیڑیوں کی طرح درندگی دکھاتے ہیں۔
اس سترہ سالہ لڑکی کی آہ و بکا اور فریاد ایک دفعہ پھر وہی نتائج دکھائے گی جو محمد بن قاسم کی شکل میں ظاہر ہوئے تھے آج یہ لوگ جنکے نام مسلمانوں جیسے ہیں لیکن بر بریت میں یہ چنگیز خان کو شرماتے ہیں( کیونکہ چنگیز خان  کوئی وڈیو بارہ سالہ بچوں کے ہاتھوں مسلمان فوجیوں اور مسلمان کارندوں کو ذبح کرتے ہوئے دستیاب نہیں بنوائی تھی) یہ سب مزہب کو سامنے رکھتے ہوئے کر رہے ہیں لیکن جو غصہ ان سزاؤں کو دیتے ہوئے انکے چہروں اور حرکات و سکنات سے جھلکتا ہے وہ واضح اعلان کرتا ہے کہ یہ سزا دیتے ہوئے وہ اپنی وحشت کی اور انا کی تسکین کر رہا ہے اللہ کی حدود کا بس پردہ ہے۔ اس وڈیو کے اختتام میں بھی لڑکی کو اندر لیکر جانے کا حکم دیتے ہوئے گالی بھی دی جاتی ہے اس شخص کو جو اس لڑکی کو لیکر جا رہا ہوتا ہے۔
اس وڈیو کی تشہیر کا توڑ بھی چنگیزیوں نے خوب سوچا ہے پے در پہ خود کش حملے کرو تاکہ سارے چینل اسی آہ و بکا میں مصروف رہیں واہ رے خونِ مُسلم کی ارزانی۔

سوات میں طالبانائزیشن کے حوالے سے جہانزیب کا ایک تبصرہ مجھے بہت حسبِ حال لگا” میں‌ تو یہی کہوں‌ گا کہ تمام پاکستانی با عمل مسلمانوں‌ کو سوات منتقل ہو جانا چاہیے تا کہ با برکت شریعت سے براہ راست فیض‌ یاب ہو سکیں، اور وہاں‌ بیٹھ کر بلاگ لکھ کر باقی بے عمل مسلمانوں‌ کی اصلاح‌ کا فریضہ انجام دیں‌ ۔“

اسی سلسلے کی کڑی

مبارک حیدر کو مبارک ہو

رضوان نے Sunday، 1 February 2009 کو شائع کيا.

سیلِ رواں کی مخالف سمت تیرنے کا حوصلہ کم ہی لوگوں میں ہوتا ہے۔
جب زمانے بھر میں ایک نظریہ ایمان کا درجہ اختیار کر جائے تو کم لوگ ہی اس کی خامیوں پر قلم اٹھاتے ہیں۔ جب دانشوروں کے پاس اپنی قوم کو دینے کے لیے کوئی امید کی کرن نا ہو تو وہ بھی مایوس لوگوں کے ساتھ جانتے بوجھتے ہوئے سرابوں کے پیچھے دوڑتے رہتے ہیں۔ لیکن سچا انقلابی اپنے آدرش سستی شہرت کے عوض بیچا نہیں کرتا اور نہ ہی جزباتیت کے شکار معاشرے کی ہاں میں ہاں ملا کر تمغہ امتیاز کا تمنائی ہوتا ہے۔ اس کی ایک ہی خواہش ہوتی ہے کہ بصیرت و بصارت کو عام کرے سطحی سوچ کے بجائے حالات و اسباب کا گہری نظر سے مطالعہ کیا جائے اور اگر زمانے کے سردو گرم جھیل طکا ہو تو یہ سہ آتشہ والی بات ہوگئی۔
مبارک حیدر بھی کچھ اسی قسم کے انقلابی ہیں اور انکی کتاب “ تہذیبی نرگسیت “ پر بی بی سی کے عارف وقار نے تبصرہ بھی عارفانہ ہی کیا ہے۔
اقتباس کچھ یوں ہیں
‘ مبارک حیدر نے وقت کے اہم ترین مسئلے ۔۔۔ دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے رجحان ۔۔۔ کی طرف خاص توجہ دی اور اس خطرناک سوچ کی طرف اہلِ وطن کی توجہ مبذول کرائی کہ شمالی علاقوں میں چلنے والی تحریک سے چونکہ بین الاقوامی سامراج یعنی امریکہ پر زد پڑ رہی ہے، اس لئے انقلابی اور عوام دوست قوتوں کو فوراً بنیاد پرست مذہبی عناصر کی حمایت میں باہر نکل آنا چاہیے۔
مبارک حیدر کے خیال میں اسطرح کی سوچ ہماری پوری قوم کی تہذیبی نرگسیت کا شاخسانہ ہے، اسی عنوان سے شائع ہونے والی اپنی حالیہ کتاب میں مبارک حیدر اس اصطلاح کا پس منظر بیان کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ قدیم یونان کی دیومالا میں نارسس نام کا ایک خوبصورت ہیرو ہے جو اپنی تعریف سنتے سنتے اتنا خود پسند ہو گیا کہ ہر وقت اپنے آپ میں مست رہنے لگا اور ایک روز پانی میں اپنا عکس دیکھتے دیکھتے خود پر عاشق ہوگیا۔ وہ رات دِن اپنا عکس پانی میں دیکھتا رہتا۔ پیاس سے نڈھال ہونے کے باوجود بھی وہ پانی کو ہاتھ نہ لگاتا کہ پانی کی سطح میں ارتعاش سے کہیں اسکا عکس بکھر نہ جائے۔ چنانچہ وہ اپنے عکس میں گُم بھوکا پیاسا ایک روز جان سے گزر گیا۔۔۔ اور دیوتاؤں نے اسے نرگس کے پھول میں تبدیل کردیا جو آج تک پانی میں اپنا عکس دیکھتا ہے۔“

“ مبارک حیدر نے اس اصطلاح کو ذاتی سطح سے اُٹھا کر اجتماعی سطح پر استعمال کیا ہے اور ہمیں باور کرایا ہے کہ کسی فرد کی طرح کبھی کبھی کوئی پوری قوم اور پوری تہذیب بھی اس بیماری میں مبتلا ہو سکتی ہے اور اسی اجتماعی کیفیت کو وہ تہذیبی نرگسیت کا نام دیتے ہیں۔ مبارک حیدر اپنی کتاب کی ابتداء ہی میں قارئین کے سامنے یہ سوال رکھتے ہیں کہ مسلم معاشروں میں تشدّد کی موجودہ لہر کے خلاف کوئی احتجاج کیوں نہیں کیا جا رہا؟ اور مسلم اُمّہ بالعموم اس تباہ کاری پر خاموش کیوں ہے؟ مبارک حیدر کا جواب یقیناً یہی ہے کہ اس وقت ہم سب قومی سطح پر ایک تہذیبی نرگسیت کا شکار ہیں۔ مصنف کی زیرِ نظر کتاب دراصل اسی اجمال کی تفصیل ہے اور اسی کلیدی اصطلاح کے مضمرات کا احاطہ کرتی ہے۔“

“’تہذیبی نرگسیت کی اساس نفرت پہ ہے اور منفی جذبوں کے اس شجر کا پھل وہ جارحیت ہے جِسے اکسانے کےلئے ایک چھوٹا سا عیّار اور منظم گروہ کئی عشروں سے ہمارے معاشروں میں سر گرمِ عمل ہے۔۔۔ یہ اقلیت کا اکثریت کے خلاف اعلانِ جنگ ہے۔‘
“ ’تہذیبی نرگسیت کا علاج ممکن ہے لیکن اگر ہم نے خود تنقیدی کا راستہ اختیار نہ کیا تو عالمی برادری کو شاید یہ حق حاصل ہوجائے کہ وہ ہمارے یہ ہاتھ باندھ دے جن سے ہم نہ صرف اپنے بدن کو زخمی کرتے ہیں بلکہ نوعِ انسانی پر بھی وار کرتے ہیں۔‘
بشکریہ بی بی سی

جملہ حقوق بحق Sarab سراب محفوظ ہيں.